نئی دہلی،یکم فروری (ایس او نیوز؍ایجنسی) دہلی کے شاہدرہ ضلع کے کستوربا نگر میں 26 جنوری کو ایک 20 سالہ لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کے ساتھ مارپیٹ کی گئی ، جس میں 9خاتون ملزمان کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اس واقعے سے متعلق ویڈیو سوشل میڈیا کے ذریعے منظر عام پر آئی تھی۔
ویڈیو میں جو کچھ دیکھا گیا اسے دیکھ کر ہر کوئی دنگ رہ گیاتھا، اس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک نوجوان خاتون کو لوگوں کے درمیان ذلیل کیا جا رہا ہے،اسے مارا پیٹا جا رہا ہے۔ ملزمان نے پہلے لڑکی کا اغوا کیا اور پھرنابالغ لڑکوں کو اجتماعی زیادتی کیلئے سونپ دیا۔ اس سب سے بھی اس کا دل نہیں بھرا تو لڑکی کو گنجا کر کے اس کا منہ کالا کر کے چپل کے ہار بنا کر پورے بازار میں گھمایا گیا۔
معاملہ کی اطلاع ملتے ہی دہلی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 11 ملزمان کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ پولیس نے خاتون کی شکایت پر اجتماعی عصمت دری کی ایف آئی آر درج کیا تھا، اس سلسلے میں 9 خواتین کو گرفتار کیا گیا ہے، گرفتارملزمان میں دو نابالغ لڑکے بھی شامل ہیں۔ دوسری جانب اس سوشل میڈیا نے پولیس کے بھی ہوش اڑا دیئے، دراصل متاثرہ کی خودکشی کی خبر ٹوئٹر پر وائرل ہونے لگی۔
دہلی پولیس نے فوری طور پر متاثرہ کے اہل خانہ سے رابطہ کیا۔ تھانے کی لیڈی ایس ایچ او خود گھر پہنچی اور دیکھا کہ متاثرہ بالکل محفوظ ہے۔پولیس محکمہ نے انتباہ دیا کہ افواہیں پھیلانے والوں کیخلاف کارروائی کی جائے گی۔اس فرضی خبر کے بارے میں دہلی پولیس نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ متاثرہ لڑکی کی خودکشی سے متعلق سوشل میڈیا پوسٹ جھوٹی اور افواہ ہے، پولیس حکام نے متاثرہ لڑکی سے ملاقات کی ہے، وہ بالکل ٹھیک ہے۔